خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگنے والی تھی، پیپلز پارٹی آڑے آگئی: بلاول بھٹو
وفاق گورنر راج یا ایمرجنسی کیلئے تیار تھا، پہلے سیاسی حل تلاش کرنے پر زور دیا، حالات قابو میں نہ آئے تو آئینی آپشن استعمال ہوسکتا ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کیلئے تیار تھی، تاہم پیپلز پارٹی نے فوری اقدام کے بجائے سیاسی حل تلاش کرنے اور پی ٹی آئی سے مذاکرات پر زور دیا۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت گزشتہ چند روز سے صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطے میں تھی۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا اور فوری اقدام کیلئے تیار تھی، تاہم پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ کسی انتہائی آئینی اقدام سے پہلے سیاسی جماعتوں کو مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کو 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ختم کرنے اور دہشت گردی کے مسئلے پر وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔
متعلقہ پوسٹس
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال قابو میں نہ آئی اور صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ تعاون نہ کیا تو ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے آئینی آپشن زیر غور آسکتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری بھی اس سے قبل تصدیق کرچکے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر ورکنگ مکمل کی گئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تناؤ کم کرنے کیلئے مذاکرات بھی جاری ہیں، جن میں حکومت کی جانب سے لانگ مارچ ختم کرنے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
