Tameerewatan
tameerewatan

بلوچستان کا مستقبل میرٹ، نوجوانوں کے مواقع اور مؤثر گورننس سے جڑا ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان کا اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں خصوصی لیکچر، بلوچستان کے مسائل کا حل مؤثر گورننس، میرٹ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کیلئے مواقع، معاشی ترقی اور امن سے جوڑ دیا

اسلام آباد: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی لوگوں سے مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے زیر اہتمام خصوصی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ زمینی حقائق کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ مخصوص واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے ماضی اور حال کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور مہرگڑھ اس کی قدیم تہذیبی اہمیت کا نمایاں ثبوت ہے۔ خانیتِ قلات، برطانوی دور اور پاکستان کے ساتھ الحاق سمیت تاریخی معاملات کو جذباتی یا یک طرفہ بیانیے کے بجائے مستند تاریخی شواہد اور دستاویزی ریکارڈ کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کیلئے پسماندگی کو واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ترقیاتی تفاوت موجود ہے، تاہم محرومی یا پسماندگی کو تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ اس سے قبل بھی وہ پسماندگی کو تشدد کا جواز قرار دینے کی مخالفت کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور صوبائی حکومت نوجوانوں کے مسائل کو سن کر انہیں پالیسی سازی میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق بلوچستان میں میرٹ پر بھرتیوں کیلئے اے آئی پر مبنی نظام، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اسکول سے باہر بچوں کی واپسی، نئے اسکولوں اور کلاس رومز کا قیام، تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی کنٹریکٹ پر بھرتی، صحت کی سہولیات میں توسیع اور خواتین و نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنا حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امن و امان سے متعلق میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے، جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مؤثر پراسیکیوشن اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اور مسائل کے حل کیلئے آئین اور قانون کے دائرے میں تمام جمہوری راستے کھلے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل آئین، جمہوری سیاست، مؤثر گورننس، تعلیم، معاشی مواقع اور امن و امان کے باہمی امتزاج میں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More