Tameerewatan
tameerewatan

مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی بے چینی، عمر عبداللہ نے مودی حکومت کو خبردار کردیا

نوجوانوں کے احتجاج کو طاقت سے دبانا مسئلے کا حل نہیں، جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت، منتخب حکومت کے اختیارات اور پرامن احتجاج کے حق پر بھی سوالات اٹھ گئے

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اختیارات اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو نوجوانوں کے بڑھتے احتجاج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کی موجودگی کے باوجود کئی اہم انتظامی اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں، جس کے باعث مقامی حکومت کے دائرۂ اختیار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

عمر عبداللہ نے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے تحفظات اور مطالبات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں احتجاجی تحریکوں سے متعلق بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کے طرزِعمل پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ احتجاج شدت اختیار کرنے کی صورت میں مظاہرین کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنے کا رجحان دیکھنے میں آتا ہے۔

جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور منتخب حکومت کے اختیارات کا معاملہ بھی بدستور اہم سیاسی مسئلہ ہے، جبکہ خطے میں مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More