مولانا فضل الرحمان کے سکھر میں دیے گئے بیان نے سیاست میں آگ لگا دی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بحث پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے تلخ سوالات کر دیے ہیں۔ سکھر میں جے یو آئی کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کی باتیں تو زور و شور سے کی جا رہی ہیں، لیکن کیا اس حوالے سے کوئی عملی تیاری بھی کی گئی ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر بالخصوص صوبہ سندھ بالکل بھی تیار نظر نہیں آتا۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکمرانی کا دائرہ کار صرف مخصوص خاندانوں اور شخصیات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جہاں باری باری اقتدار نواز شریف سے زرداری اور زرداری سے نواز شریف تک گھوم رہا ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عوام سے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کا بنیادی حق چھیننا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ملک کسی ایک فرد یا جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ ہم سب کا ہے اور اپنے ہی وطن میں پاکستان سے محبت ثابت کرنے کے لیے کسی کو بھی سکیورٹی یا انتظامیہ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔