اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پمز اسپتال کی بچوں کی نرسری میں آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں آگ 26 اگست کو صبح 6 بج کر 54 منٹ پر لگی، جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملنے کے تقریباً 6 منٹ بعد موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی طور پر نرسری سے شدید دھواں اٹھنے کی اطلاع ملی تھی۔
سی ڈی اے کی ابتدائی رپورٹ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ یا پلگ پر اضافی لوڈ قرار دیا گیا ہے، تاہم حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔
رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز، ایک ریسکیو وین اور واٹر باؤزر استعمال کیے گئے، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے 44 اہلکاروں اور 6 افسران نے آپریشن میں حصہ لیا۔
ابتدائی رپورٹ میں پمز نرسری کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو بھی غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی راستے اور اخراج کے دروازے مستقل طور پر بند یا رکاوٹوں سے متاثر تھے۔
سی ڈی اے کے مطابق فائر فائٹنگ عملے کو ابتدائی کارروائی کے دوران اسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے رکاوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا، جبکہ جائے وقوعہ پر ہجوم کو منظم کرنے کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 19 افراد کو نرسری سے نکالا گیا، جن میں خواتین، بچے اور مرد شامل تھے۔ رپورٹ میں 7 بچوں کے زندہ نکالے جانے اور 7 بچوں کے جاں بحق ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
پمز آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر آپریشنز تشفین زمان آفریدی نے مرتب کی ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد حتمی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔