Tameerewatan
tameerewatan

گیس لائن پر حملے کے بعد کوئٹہ کے لیے اگلی بری خبر آ گئی

گیس لائن پر حملے کے بعد کوئٹہ کے لیے اگلی بری خبر آ گئی

کوئٹہ کے شہری پہلے ہی گیس کے کم پریشر اور غیر اعلانیہ بندشوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے تھے کہ اب سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے عارضی شیڈول نے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

نئے شیڈول کے مطابق کوئٹہ شہر میں گیس کی فراہمی مخصوص اوقات تک محدود کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو صبح 6:30 سے 8:30 بجے، دوپہر 12 سے 3 بجے اور شام 6:30 سے رات 9 بجے تک گیس فراہم کی جائے گی۔ اس حساب سے روزانہ صرف تقریباً 9 گھنٹے گیس دستیاب ہوگی، جبکہ باقی وقت شہری گیس کی بندش کا سامنا کریں گے۔

کوئٹہ جیسے سرد علاقے میں گیس صرف ایک سہولت نہیں بلکہ شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ گھریلو امور، کاروباری سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی سب کا انحصار گیس کی مسلسل فراہمی پر ہے۔ ایسے حالات میں طویل بندش نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق 18 انچ قطر کی پائپ لائن کو تخریبی کارروائی کے باعث نقصان پہنچا، جس کے بعد گیس سپلائی متاثر ہوئی اور عارضی شیڈول جاری کیا گیا۔ پائپ لائن کو پہنچنے والا نقصان یقیناً ایک سنگین معاملہ ہے، تاہم اس کے اثرات سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب اس اہم عوامی مسئلے پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا ردعمل محدود نظر آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت کو صرف انتخابی دنوں میں نہیں بلکہ مشکل حالات میں بھی عوام کے مسائل کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

بلوچستان ایک طویل عرصے سے گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے، لیکن یہاں کے شہری آج بھی کم پریشر، لوڈشیڈنگ اور بندشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کوئٹہ کے عوام کے لیے یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ قدرتی وسائل رکھنے والے صوبے کا دارالحکومت بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار کیوں ہے۔

سیاسی جماعتوں اور منتخب نمائندوں سے عوام کی توقع ہے کہ وہ اس مسئلے کو اسمبلیوں اور متعلقہ اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں۔ حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی سے واضح کیا جائے کہ متاثرہ پائپ لائن کی بحالی کا کام کب مکمل ہوگا اور گیس کی معمول کی فراہمی کب تک بحال کی جائے گی۔

اگر گیس سپلائی میں خلل کسی تخریبی کارروائی کے باعث آیا ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن اس صورتحال کا بوجھ عام شہریوں پر طویل بندش کی صورت میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

کوئٹہ کے شہری صرف وضاحتیں اور بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ گیس شیڈول کتنے عرصے تک جاری رہے گا اور معمول کی فراہمی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عوامی مسائل پر خاموشی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک سوال بن جاتی ہے۔ شہری چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کی آواز بنیں اور گیس جیسے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More