کوئٹہ: بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گورنر بلوچستان نے تعمیرِ نو یونیورسٹی کوئٹہ ایکٹ 2026 کی توثیق کردی ہے۔ اس اقدام سے صوبائی دارالحکومت میں ایک نئی نجی یونیورسٹی کے قیام کی قانونی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق تعمیرِ نو یونیورسٹی کوئٹہ سے متعلق بل صوبائی اسمبلی نے 12 اکتوبر 2026 کو منظور کیا تھا، جس کی گورنر بلوچستان نے 13 اکتوبر کو توثیق کی۔ گورنر کی منظوری کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔
نئے قانون کے تحت یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس کوئٹہ میں قائم کیا جائے گا، جبکہ ادارے کو اعلیٰ تعلیم، تدریسی سرگرمیوں اور تحقیقی منصوبوں کے لیے قانونی اختیارات حاصل ہوں گے۔
ایکٹ میں یونیورسٹی کو تعلیمی پروگرام متعارف کرانے، ڈگریاں جاری کرنے اور طلبہ کے لیے وظائف فراہم کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صوبے کے دیگر علاقوں میں ذیلی کیمپس، کالج اور تحقیقی مراکز قائم کرنے کی اجازت بھی قانون کا حصہ ہے۔
قانون میں مستحق طلبہ کی مالی معاونت اور میرٹ کی بنیاد پر تعلیمی مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، تاکہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں بہتری لائی جاسکے۔
تعمیرِ نو یونیورسٹی کو انتظامی اور مالی خودمختاری بھی حاصل ہوگی، تاہم ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے متعلقہ قواعد، تعلیمی معیارات اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا۔
نئی یونیورسٹی کے قیام سے متعلق یہ پیش رفت بلوچستان میں نجی شعبے کی اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں میں توسیع کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ تاہم یونیورسٹی کی عملی فعالیت، تعلیمی پروگراموں کی دستیابی اور طلبہ کے داخلوں سے متعلق مزید اقدامات ہونا باقی ہیں۔
واضح رہے کہ ایکٹ کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی میں فوری طور پر داخلے یا کلاسیں شروع ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے تعمیراتی منصوبے، انتظامی تیاریوں، متعلقہ منظوریوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کے شیڈول کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔
تعمیرِ نو یونیورسٹی کے عملی قیام اور تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ یہ ادارہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے کن شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔