کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ایمبولینس کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 60 کلوگرام چرس برآمد کرلی، جبکہ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کوئٹہ کے علاقے سونا خان چوک کے قریب کی گئی۔ اہلکاروں نے ایک مشتبہ ایمبولینس کو روک کر اس کی تلاشی لی تو گاڑی میں خصوصی طور پر تیار کیے گئے خفیہ خانوں سے بڑی مقدار میں چرس برآمد ہوئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق منشیات بلوچستان کے ضلع مستونگ سے کوئٹہ منتقل کی جارہی تھیں۔ اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص بین الصوبائی منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کا اہم کارندہ ہے، تاہم اس کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ روابط سے متعلق مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ملزم کی شناخت اور برآمد شدہ منشیات کی مالیت کے بارے میں تاحال معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
اس کارروائی کا نمایاں پہلو منشیات کی منتقلی کے لیے ایمبولینس کا استعمال ہے۔ عام طور پر مریضوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی میں خفیہ خانے بنا کر منشیات چھپائی گئی تھیں، جنہیں تلاشی کے دوران دریافت کیا گیا۔
اے این ایف نے ہنگامی طبی خدمات کے لیے مخصوص گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اضافی چیلنج پیدا کرتی ہیں، کیونکہ ایسی گاڑیاں بنیادی طور پر فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ایمبولینس کے ذریعے منشیات منتقل کرنے کی کوشش کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل سندھ کے علاقے شکارپور میں بھی اے این ایف نے ایک کارروائی کے دوران ایمبولینس کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کی تھیں۔ اس کارروائی میں بلوچستان سے سندھ منشیات منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
کوئٹہ میں حالیہ کارروائی کے بعد منشیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے طریقوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ ایمبولینس جیسی گاڑیوں کا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال ہنگامی طبی خدمات سے وابستہ اعتماد کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ضبط کی گئی ایمبولینس کسی سرکاری یا نجی طبی ادارے سے وابستہ تھی یا اسے خصوصی طور پر منشیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ اسی طرح اس معاملے میں کسی طبی ادارے کے ملوث ہونے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔
اے این ایف نے کارروائی کو منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ گرفتار ملزم کے مبینہ نیٹ ورک، دیگر ممکنہ سہولت کاروں اور منشیات کی آخری منزل کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔