مواد پر جائیں

کوئٹہ 15°C فجر 5:17 ظہر 12:17 عصر 4:18 مغرب 5:56 عشاء 7:16
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
ٹیکنالوجی

چاند مسلسل سکڑ رہا ہے، سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں اہم انکشاف

چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زائد دراڑوں کی نشاندہی، محققین کے مطابق گزشتہ کروڑوں سال میں اس کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کمی ہوئی۔

چاند کے بارے میں ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زمین کا قدرتی سیارچہ وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ سکڑ رہا ہے۔ سائنس دانوں نے اس کی سطح پر ہزاروں ارضیاتی ساختوں کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ کروڑوں سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے ’دی پلینیٹری سائنس جرنل‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ نسبتاً نئی فالٹ لائنز، یعنی ارضیاتی دراڑوں اور شکستگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان ساختوں سے چاند کی اندرونی تبدیلیوں اور سکڑنے کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
محققین کا اندازہ ہے کہ گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کمی ہوئی ہے۔ اگر اس تبدیلی کو طویل عرصے میں یکساں رفتار سے جاری رہنے والا عمل تصور کیا جائے تو چاند کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کم ہوتا ہے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ چاند کا سکڑنا ایک انتہائی سست ارضیاتی عمل ہے، جسے عام انسانی زندگی کے دوران محسوس کرنا ممکن نہیں۔ اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے سائنس دانوں کو لاکھوں اور کروڑوں سال پر محیط ارضیاتی شواہد کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔
تحقیق کی قیادت سائنس دان تھامس آر واٹرز نے کی، جن کا تعلق امریکا کے اسمتھ سونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے ہے۔ ان کی ٹیم نے چاند کی سطح کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے ناسا کے لونر ریکونائسنس آربیٹر سے حاصل ہونے والی تصاویر استعمال کیں۔
یہ خلائی مشن چاند کے گرد گردش کرتے ہوئے اس کی سطح کی تفصیلی تصاویر اور مشاہداتی معلومات فراہم کرتا ہے۔ انہی معلومات کی مدد سے محققین نے ایسی ارضیاتی ساختوں کا نقشہ تیار کیا جو چاند کی سطح پر دباؤ اور سکڑاؤ کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔
ان ساختوں میں ’لوبیٹ اسکارپس‘ اور چھوٹی ’میئر رِجز‘ شامل ہیں۔ یہ چاند کی سطح پر ابھرنے والی ایسی نشانیاں ہیں جو اس وقت بن سکتی ہیں جب سطح کی پرتیں دباؤ کے باعث ایک دوسرے کے مقابل حرکت کرتی ہیں۔
سائنس دانوں نے یہ ساختیں چاند کے پہاڑی علاقوں کے ساتھ اس کے نسبتاً ہموار میدانوں میں بھی دریافت کیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکڑنے سے متعلق ارضیاتی تبدیلیاں صرف کسی ایک مخصوص حصے تک محدود نہیں بلکہ چاند کی سطح کے وسیع علاقوں میں موجود ہیں۔
چاند کے سکڑنے کے شواہد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل بھی سامنے آچکے تھے، تاہم نئی تحقیق میں سطح کی بڑی تعداد میں ساختوں کا جائزہ لے کر اس عمل کی مقدار کا زیادہ تفصیلی اندازہ پیش کیا گیا ہے۔
محققین کے مطابق چاند کے نصف قطر میں ہونے والی کمی کا تخمینہ اس کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔ البتہ ہر 10 لاکھ سال میں 6 سے 11 سینٹی میٹر سکڑنے کی شرح ایک حسابی اوسط ہے، جس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چاند ہر دور میں بالکل اسی رفتار سے سکڑتا رہا ہے۔
اس تحقیق سے چاند کی سطح کی ساخت، اس میں ہونے والی تبدیلیوں اور طویل مدت کے ارضیاتی ارتقا کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ مستقبل میں مزید مشاہدات سے سائنس دان اس عمل کی رفتار اور چاند کی مختلف سطحی ساختوں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

چاند مسلسل سکڑ رہا ہے، سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں اہم انکشاف