مواد پر جائیں

کوئٹہ 23°C فجر 5:15 ظہر 12:18 عصر 4:22 مغرب 6:00 عشاء 7:20
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

پشاور اسکول سانحہ، شہریوں نے سابق خیبرپختونخوا حکومت پر سوالات اٹھا دیے

بچوں اور اساتذہ کی اموات پر شدید غم و غصہ، تعلیمی اداروں کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات پر تنقید

پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بچوں اور اساتذہ کی اموات کے بعد شہریوں اور اساتذہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ علاقے کے بعض رہائشیوں نے سابق صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور اسکولوں کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھاتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔

پشاور اسکول سانحہ، شہریوں نے سابق خیبرپختونخوا حکومت پر سوالات اٹھا دیے

شہریوں نے افسوسناک واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 13 سالہ دور حکومت کے دوران تعلیم کے شعبے میں بہتری کے دعوے کیے جاتے رہے، لیکن ان کے علاقے میں سرکاری اسکولوں اور بنیادی تعلیمی سہولتوں کی کمی دور نہیں کی گئی۔

مقامی افراد کے مطابق دیر کالونی میں سرکاری تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی اور مناسب سہولتوں کی کمی کے باعث بچوں کی تعلیم کے لیے نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے تحفظ اور ان کی مؤثر نگرانی کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

واقعے پر ردعمل ظاہر کرنے والے اساتذہ اور شہریوں نے سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے اعلانات کے ساتھ اسکولوں کے لیے مؤثر قواعد، حفاظتی معائنوں اور نگرانی کا قابلِ عمل نظام بھی ضروری تھا۔ تاہم یہ شہریوں کے بیانات ہیں، جن سے کسی مخصوص حکومت یا ادارے کی قانونی ذمہ داری خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔

شہریوں اور اساتذہ نے ریسکیو اہلکاروں، پولیس اور پاک فوج کی امدادی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کوششوں کے نتیجے میں متعدد بچوں کی جانیں بچائی گئیں۔

دیر کالونی میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کا واقعہ 15 اکتوبر کو پیش آیا تھا۔ اس سانحے میں متعدد طلبہ اور دو خواتین اساتذہ جان کی بازی ہار گئیں، جبکہ بڑی تعداد میں بچے زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا اور اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔

متعلقہ حکام کے مطابق تحقیقات میں عمارت کی ساخت، تعمیراتی معیار، حفاظتی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی ممکنہ غفلت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اسکول کے مالک نے واقعے کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے عمارت میں ناقص تعمیراتی مواد کے استعمال کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا حفاظتی سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تکنیکی معائنوں کی جامع رپورٹس 26 اکتوبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پشاور کے اس سانحے کے بعد نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی جانچ پڑتال اور حفاظتی قواعد پر عمل درآمد سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات کے ذریعے غفلت کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔