مواد پر جائیں

کوئٹہ 23°C فجر 5:14 ظہر 12:18 عصر 4:23 مغرب 6:02 عشاء 7:21
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کا امکان، وزیر خزانہ کی موڈیز حکام سے اہم ملاقات

محمد اورنگزیب نے زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی اشاریوں اور قرضوں کی صورتحال پر بریفنگ دی، عالمی ریٹنگ ایجنسی سے پاکستان کی درجہ بندی مزید بہتر بنانے پر تبادلہ خیال

بینکاک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے نمائندوں سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اور مستقبل میں درجہ بندی مزید بہتر ہونے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کا امکان، وزیر خزانہ کی موڈیز حکام سے اہم ملاقات

وزارت خزانہ کے مطابق یہ ملاقات تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی، جہاں وزیر خزانہ پاکستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔

ملاقات میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری، مالیاتی اور بیرونی شعبے کے معاشی اشاریوں، زرمبادلہ کے ذخائر اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔

محمد اورنگزیب نے موڈیز کے نمائندوں کو بتایا کہ حکومت مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ نسبتاً طویل مدت کے قرضوں کے حصول پر کام کررہی ہے، تاکہ قرضوں کی واپسی سے متعلق دباؤ کم کیا جاسکے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر قرضوں کی مدت بہتر بنانا اور مالیاتی انتظام کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

پاکستانی وفد نے موڈیز کے حکام کو بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی فارورڈ واجبات میں بھی کمی آئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے ساتھ بنیادی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا مقصد آئی ایم ایف پروگرام سے آگے بڑھ کر برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے موڈیز کے نمائندوں سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات سے متعلق رائے بھی طلب کی۔ اس دوران اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ کسی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کے تعین میں سیاسی خطرات اور معاشی کارکردگی کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ موڈیز نے اگست 2026 میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بہتر کرکے B3 کردی تھی اور اس کا آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھا تھا۔ اسی طرح ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے جولائی 2026 میں پاکستان کو B ریٹنگ دی تھی، جس کا آؤٹ لک بھی مستحکم ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے توقع ظاہر کی تھی کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں مالی سال 2027-28 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر 2027 کے دوران پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B+ تک بہتر کرسکتی ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی نئی ریٹنگ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔

معاشی ماہرین کے مطابق کسی ملک کی بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے اور بیرونی مالی وسائل تک نسبتاً بہتر شرائط پر رسائی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم قرضوں کی حقیقی لاگت عالمی مالیاتی حالات اور دیگر معاشی عوامل پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ نے اوپیک فنڈ برائے بین الاقوامی ترقی کے صدر ڈاکٹر عبدالحمید الخلیفہ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی پر تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات میں موٹروے ایم 6 کی فنانسنگ، ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی جدید کاری اور بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے ترقیاتی منصوبے بھی زیر بحث آئے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ روابط بڑھانے کے ساتھ معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے ذریعے ملک کی مالیاتی ساکھ مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔