اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اطلاق صرف 12 متاثرہ اضلاع تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے پر ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اضافی انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ ان علاقوں کے معاملات کے لیے ایک مخصوص سیکریٹریٹ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی طریقہ کار اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایمرجنسی صرف انہی علاقوں میں نافذ ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق آئینی اقدام پورے خیبرپختونخوا کے لیے ہے، البتہ مخصوص اضلاع میں سیکیورٹی کی ضروریات کے تحت اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں متضاد پالیسیاں اختیار نہیں کی جاسکتیں۔
پریس کانفرنس کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کی صورتحال سے متعلق بعض اعدادوشمار بھی پیش کیے اور صوبے میں امن و امان کے مسائل پر حکومتی مؤقف بیان کیا۔ تاہم ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں وفاقی حکومت کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سیاسی مخالفین نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے صوبائی خودمختاری، منتخب حکومت کے اختیارات اور عوامی مینڈیٹ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
اس معاملے پر وفاقی حکومت اور سیاسی مخالفین کے مؤقف میں بنیادی اختلاف موجود ہے۔ حکومت اس اقدام کو دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کی ضرورت قرار دے رہی ہے، جبکہ مخالفین اسے صوبائی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون کی وضاحت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے 12 متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچہ ضرور متعارف کرایا ہے، لیکن اس کے مطابق ایمرجنسی کا آئینی دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا میں کیے گئے ان اقدامات کے انتظامی اور سیکیورٹی نتائج کا اندازہ ان کے عملی نفاذ اور آئندہ صورتحال کی بنیاد پر ہوگا۔ فی الحال حکومت نے خصوصی انتظامات کی تفصیلات بیان کی ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں ممکنہ بہتری کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔