مواد پر جائیں

کوئٹہ 25°C فجر 5:13 ظہر 12:18 عصر 4:25 مغرب 6:04 عشاء 7:23
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، سائبر کرائم ایجنسی کے حوالے

کراچی کی عدالت نے تفتیشی ادارے کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی، مقدمہ سوشل میڈیا پر مبینہ اشتعال انگیز مواد کی تشہیر سے متعلق ہے۔

کراچی: کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے صحافی اور ٹیلی ویژن میزبان اقرار الحسن کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، سائبر کرائم ایجنسی کے حوالے

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تفتیشی ادارے نے اقرار الحسن کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے چار روزہ ریمانڈ دیا۔

اقرار الحسن کے خلاف مقدمے میں کیا الزامات ہیں؟

اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

تفتیشی ادارے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں سے متعلق مبینہ طور پر غلط اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا گیا۔

یہ الزامات مقدمے اور تفتیش کا حصہ ہیں، جبکہ اقرار الحسن کے خلاف کسی جرم کے ثابت ہونے سے متعلق عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

عدالت میں تشدد اور وکیل سے متعلق سوالات

سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن سے پوچھا کہ آیا انہیں دورانِ حراست کسی قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقرار الحسن نے عدالت کو بتایا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت تک انہوں نے اپنا وکیل مقرر نہیں کیا۔

عدالت نے تفتیشی ادارے کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

جسمانی ریمانڈ کے بعد کیا ہوگا؟

جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیشی ادارہ مقدمے سے متعلق شواہد اور دیگر قانونی پہلوؤں کی تحقیقات کرسکے گا۔

قانونی طور پر جسمانی ریمانڈ کی منظوری کسی ملزم کے مجرم ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مقصد متعلقہ مقدمے میں تفتیش کے لیے محدود مدت کی تحویل فراہم کرنا ہوتا ہے۔

مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد اقرار الحسن کو دوبارہ متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جانا ہوگا، جہاں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔