مواد پر جائیں

کوئٹہ 14°C فجر 5:26 ظہر 12:16 عصر 4:07 مغرب 5:44 عشاء 7:05
آج کا ای پیپر ⁦1⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

عباس عراقچی کے مطابق فوجی کشیدگی ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت اور یمن تنازع پر بھی اہم مؤقف سامنے آگیا۔

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران فوجی کشیدگی ختم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں بات چیت کا عمل جاری ہے۔
عراقی ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ رابطوں، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور پاکستان اور قطر اس سلسلے میں رابطوں کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے مذاکرات میں کسی حتمی پیش رفت یا ممکنہ معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس راستے سے بحری آمد و رفت کے انتظامات پر اتفاق ہوچکا ہے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مخصوص راستوں کا نقشہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آبنائے ہرمز کھولی جائے گی تو بحری جہاز ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستہ استعمال کریں گے۔
آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت سے متعلق یہ ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف ہے۔ اس اہم سمندری راستے پر بین الاقوامی جہاز رانی کے حقوق اور ساحلی ممالک کے اختیارات کے حوالے سے مختلف قانونی تشریحات موجود ہیں، اس لیے عراقچی کے بیان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قانونی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایک دوسرے انٹرویو میں یمن کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم ان کے بقول دونوں جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یمن کے تنازع میں مصر کی ممکنہ فوجی مداخلت سے متعلق سوال پر ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق مصر ماضی میں تہران کو آگاہ کرچکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے ان بیانات میں پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطوں کو جاری رکھنے کی تصدیق تہران کے مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم ان رابطوں کی موجودہ نوعیت، مذاکرات کی سطح اور کسی ممکنہ پیش رفت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی