مواد پر جائیں

کوئٹہ 14°C فجر 5:26 ظہر 12:16 عصر 4:07 مغرب 5:44 عشاء 7:05
آج کا ای پیپر ⁦1⁩ نومبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، اہم شعبوں میں اشتراک پر اتفاق

بدر منصوبے کے تحت دفاعی صنعتوں، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

دوحہ: پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کثیرملکی منصوبے ’بدر‘ کے تحت مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار، تکنیکی مہارت اور صنعتی صلاحیتوں کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب دوحہ میں منعقد ہوئی، جس میں شریک ممالک کے وزرائے دفاع اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے کی، جبکہ ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
منصوبے کے تحت چاروں ممالک نے دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے، پیداواری صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور جدید دفاعی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی اور صنعتی حل کی تیاری کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس پیش رفت کو علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق پاکستان متعلقہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دفاعی شعبے میں خود کفالت، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے کو بھی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔
بدر منصوبے کے ذریعے شریک ممالک اپنی موجودہ صنعتی سہولتوں، تکنیکی مہارت اور پیداواری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس تعاون میں دفاعی تحقیق، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تجربات کے تبادلے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
قطری وزارت دفاع کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرنا ہے، تاکہ شریک ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں۔
تاہم مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں کسی مخصوص ہتھیار، طیارے، میزائل یا دوسرے دفاعی نظام کی مشترکہ تیاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح سرمایہ کاری کی رقم، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مخصوص منصوبوں اور عملی سرگرمیوں کے شیڈول کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔
پاکستان کے لیے اس تعاون کی اہمیت دفاعی پیداوار اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے ممکنہ مواقع سے وابستہ ہے۔ البتہ ان امکانات کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ ہونے والے معاہدوں، مشترکہ منصوبوں کے انتخاب اور ان پر عمل درآمد پر ہوگا۔
چاروں ممالک کے درمیان بدر مفاہمتی یادداشت دفاعی صنعتوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کی ایک ابتدائی پیش رفت ہے۔ اس کے تحت مستقبل میں کون سے مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کی نوعیت کیا ہوگی، اس کی تفصیلات متعلقہ حکام کے مزید اعلانات کے بعد واضح ہوں گی۔

پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ، اہم شعبوں میں اشتراک پر اتفاق