ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس یوکرین کے اندر اپنی سرحد کے ساتھ ایک سیکیورٹی زون قائم کررہا ہے اور مستقبل میں یوکرین کے ساتھ ہونے والے کسی بھی امن مذاکرات میں اس علاقے پر بات نہیں کی جائے گی۔
جمعہ کو ایک فوجی کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران روسی صدر نے فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین سے ملحقہ روسی علاقوں کی مستقل حفاظت کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔ ان کے مطابق روسی فوج کو نہ صرف اپنی سرزمین سے یوکرینی فورسز کو پیچھے دھکیلنے بلکہ سرحد کے دوسری جانب بھی ایک محفوظ علاقہ قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
فوجی وردی میں موجود روسی صدر نے کہا کہ فوج اس منصوبے پر کامیابی سے عمل کررہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس اپنے سرحدی علاقوں کو مستقبل میں کسی بھی حملے سے محفوظ بنانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے قائم کیے جانے والے سیکیورٹی زون کو امن مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
پیوٹن نے اس فیصلے کو 2024 اور 2025 کے دوران یوکرینی فوج کی جانب سے روس کے مغربی علاقے کرسک میں کی گئی کارروائیوں سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بعد روسی فوج کو سرحد کے قریب اضافی حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سیکیورٹی زون روس اور یوکرین کی سرحد کے ساتھ تقریباً 660 کلومیٹر تک پھیلا ہوگا۔ ان کے مطابق اس علاقے کے تقریباً 70 فیصد حصے پر روسی فورسز کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔
تاہم روسی ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ سیکیورٹی زون یوکرین کی سرحد کے اندر کتنی دور تک پھیلے گا۔ منصوبے کے تحت یوکرین کے شمال مشرقی علاقوں سومی اور خارکیف کے بعض حصے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
یہ دونوں علاقے ان یوکرینی خطوں میں شامل نہیں جنہیں روس نے 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اپنا حصہ قرار دیا تھا۔ اس لیے ان علاقوں میں سیکیورٹی زون قائم کرنے کے منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی تنازع مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
روسی صدر اس سے پہلے بھی یوکرین کی سرحد کے ساتھ ایک حفاظتی علاقہ قائم کرنے کی ضرورت پر بات کرچکے ہیں، لیکن اس مرتبہ روسی حکومت نے پہلی بار اس منصوبے کی مجوزہ لمبائی بتائی ہے اور اسے مستقبل کے امن مذاکرات سے الگ رکھنے کا واضح اعلان کیا ہے۔
فوجی کمانڈروں سے گفتگو کے دوران پیوٹن نے مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی کی صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق روسی فوج ابھی تک ڈونیٹسک کے 10 فیصد سے کچھ زیادہ علاقے اور زاپوریژیا کے 16.5 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل نہیں کرسکی۔
انہوں نے یوکرین کے فوجی اور صنعتی مراکز، رسد کے راستوں اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات پر روسی حملوں کو مؤثر قرار دیا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ روس کے فضائی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی صنعتی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں روسی فوج یوکرین کے فوجی صنعتی مراکز اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
روسی فوج کے سربراہ جنرل والیری گیراسیموف نے بھی فوجی صورتحال پر بریفنگ دی۔ ان کے مطابق روسی فورسز نے یوکرین کے توانائی کے نظام، ریلوے، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں سے یوکرین کی فوجی صلاحیت اور اسلحہ تیار کرنے کی استعداد متاثر ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن سرحدی علاقوں، مقبوضہ خطوں اور سیکیورٹی انتظامات پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی توانائی اور صنعتی تنصیبات پر حملوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ یوکرینی ڈرونز نے روس میں تیل صاف کرنے کے ایک بڑے کارخانے اور ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنایا، جبکہ روسی حملوں میں یوکرین کے شہروں، بجلی گھروں اور بندرگاہوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب روس اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پر بھی بات چیت ہورہی ہے۔ روسی سرمایہ کاری کے نمائندے کیرل دمتریف کے مطابق دونوں ممالک ڈیزل کی تجارت سے متعلق حالیہ معاہدے کے بعد مشترکہ منصوبوں پر غور کررہے ہیں، جن میں جوہری توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز بھی شامل ہیں۔
روسی صدر کے تازہ اعلان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ماسکو سرحدی سیکیورٹی زون کو اپنی مستقبل کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد اور متعلقہ علاقوں پر روسی کنٹرول کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔