اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلوچستان کے اہم معدنی منصوبے ریکوڈک کے لیے مالی معاونت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی کارپوریشن (آئی ایف سی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات کی، جس میں منصوبے کی مالی ضروریات اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ریکوڈک منصوبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ممکنہ تعاون اور بڑے معدنی منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات زیرِ غور آئے۔
ریکوڈک منصوبے کی معاشی اہمیت
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک پاکستان کے اہم تانبے اور سونے کے معدنی ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے کو ملک میں معدنی وسائل کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ریکوڈک جیسے بڑے معدنی منصوبوں کے لیے کان کنی، مشینری، توانائی، پانی، نقل و حمل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کی شرکت اہمیت رکھتی ہے۔
عالمی مالیاتی کارپوریشن کا کردار
عالمی مالیاتی کارپوریشن عالمی بینک گروپ کا حصہ ہے اور ترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبوں کی مالی معاونت پر کام کرتی ہے۔
آئی ایف سی کے ساتھ رابطوں کا مقصد ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری اور مالی تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
تاہم ملاقات میں تبادلہ خیال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی نئی مالی معاونت کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات میں کسی نئے قرض، سرمایہ کاری کی رقم یا معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بلوچستان کے لیے ممکنہ فوائد
ریکوڈک منصوبے کی پیش رفت سے بلوچستان میں روزگار، مقامی کاروبار، بنیادی ڈھانچے اور معدنی شعبے کی ترقی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم ان فوائد کا حقیقی حجم منصوبے پر عمل درآمد، مقامی افراد کی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ اور متعلقہ مالی و انتظامی انتظامات پر منحصر ہوگا۔
وفاقی حکومت کی عالمی مالیاتی اداروں سے بات چیت کو ریکوڈک منصوبے کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔