مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:13 ظہر 12:18 عصر 4:25 مغرب 6:04 عشاء 7:23
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی نئی پیشگوئی سامنے آگئی

عالمی مالیاتی فنڈ نے مہنگائی کا تخمینہ بڑھا کر 9.9 فیصد کردیا، معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی توقع، حکومتی اہداف کے حصول پر سوالات اٹھ گئے۔

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے اپنا سابقہ تخمینہ تبدیل کردیا ہے، جبکہ ملکی معیشت کی شرح نمو سے متعلق اندازہ برقرار رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی نئی پیشگوئی سامنے آگئی

آئی ایم ایف کی تازہ عالمی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان میں اوسط مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے اس سے قبل اپریل میں مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا، جسے جولائی میں بھی برقرار رکھا گیا، تاہم تازہ جائزے میں یہ تخمینہ 1.5 فیصد پوائنٹس بڑھا دیا گیا ہے۔

حکومتی ہدف اور آئی ایم ایف کے تخمینے میں فرق

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کی نئی پیشگوئی اس سے 1.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔

حالیہ معاشی جائزہ مذاکرات میں وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کے دباؤ کے باوجود مقررہ ہدف حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

تاہم عالمی مالیاتی ادارے کے نئے تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا دباؤ پہلے کے اندازوں سے زیادہ رہ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی کی قیمتیں

آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کے تخمینے میں اضافے کی کوئی الگ اور مخصوص وجہ بیان نہیں کی، تاہم ادارے نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو علاقائی معیشتوں کے لیے اہم خطرہ قرار دیا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے نقل و حمل، صنعتوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین پر اضافی مالی دباؤ پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

معاشی ترقی کا تخمینہ 3.5 فیصد برقرار

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح رواں مالی سال 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی برقرار رکھی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے معاشی ترقی کا سالانہ ہدف 4 فیصد مقرر کررکھا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی ملکی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کرچکے ہیں۔

اس طرح معاشی ترقی کے معاملے میں بھی حکومتی توقعات اور عالمی مالیاتی ادارے کے تخمینے میں فرق برقرار ہے۔

شرح سود اور معاشی پالیسی پر ممکنہ اثرات

مہنگائی کی بلند پیشگوئی کے بعد مستقبل میں شرح سود اور مالیاتی پالیسی سے متعلق فیصلے مزید اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔

اگر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ توقع سے زیادہ برقرار رہا تو اسٹیٹ بینک کو مہنگائی قابو میں رکھنے کے لیے محتاط مالیاتی پالیسی اختیار کرنا پڑسکتی ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کی اس پیشگوئی کا مطلب یہ نہیں کہ شرح سود میں اضافہ یقینی ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ مہنگائی کے حقیقی اعدادوشمار اور مجموعی معاشی حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

بیرونی کھاتوں کے خسارے میں اضافے کا امکان

آئی ایم ایف نے پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ بھی بڑھا کر مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد کے برابر کردیا ہے۔

اس حساب سے رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 4.4 ارب ڈالر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں، درآمدات اور زرمبادلہ کے انتظام سے متعلق معاشی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہوگا۔

آئی ایم ایف کی تازہ پیشگوئیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان معاشی استحکام برقرار رکھنے، مہنگائی محدود کرنے اور ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل کررہا ہے۔

نئے تخمینے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ رواں مالی سال حکومت کو قیمتوں میں اضافے، معاشی ترقی اور بیرونی ادائیگیوں کے شعبوں میں مزید چیلنجز کا سامنا رہ سکتا ہے۔