مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:16 ظہر 12:17 عصر 4:21 مغرب 5:59 عشاء 7:19
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

روسی فوجی افسر کی بغاوت، 300 ساتھی فوجیوں کی ہلاکت میں مدد کا انکشاف

لیفٹیننٹ لیو اسٹوپنیکوف نے خفیہ فوجی معلومات یوکرین کو فراہم کیں، روسی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کے بعد خود بھی یوکرین فرار ہوگیا

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک روسی فوجی افسر کی خفیہ سرگرمیوں کا حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے اپنی ہی فوج کی نقل و حرکت، جنگی منصوبوں اور اہم ٹھکانوں کی معلومات یوکرینی حکام کو فراہم کرکے مبینہ طور پر 300 سے زائد روسی فوجیوں کی ہلاکت میں کردار ادا کیا۔

روسی فوجی افسر کی بغاوت، 300 ساتھی فوجیوں کی ہلاکت میں مدد کا انکشاف

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 سالہ روسی لیفٹیننٹ لیو اسٹوپنیکوف نے کئی ماہ تک روسی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے خفیہ طور پر یوکرینی انٹیلی جنس کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔ اس دوران وہ اپنی ہی فوج کی کارروائیوں اور اہم فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات مخالف فریق کو منتقل کرتا رہا۔

لیو اسٹوپنیکوف روسی فوج کی 36 ویں موٹر رائفل بریگیڈ میں مواصلاتی افسر کے طور پر تعینات تھا۔ اس کی ذمہ داری فوجی کمانڈروں اور میدان جنگ میں موجود دستوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنا تھی، جس کے باعث اسے فوجی نقل و حرکت، مواصلاتی نظام، نگرانی کے کیمروں اور ڈرونز سے حاصل ہونے والی معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

رپورٹس کے مطابق روسی افسر نے اسی رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرینی انٹیلی جنس کو روسی فوجیوں کے ٹھکانوں، حملوں کی منصوبہ بندی اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرنا شروع کردیں۔ ان معلومات کی مدد سے یوکرینی فورسز کو روسی فوج کے خلاف متعدد حملے کرنے میں مدد ملی۔

فروری 2024 میں مشرقی یوکرین کے علاقے ووہلیدار کے قریب روسی فوج کے ایک تربیتی اجتماع کے دوران لیفٹیننٹ اسٹوپنیکوف نے وہاں موجود فوجیوں کی تصاویر اور ان کے مقام کی معلومات یوکرینی رابطہ کار کو بھیجیں۔ اس نے اندازہ ظاہر کیا کہ مقام پر تقریباً 120 سے 150 فوجی موجود تھے۔

اس کے بعد روسی افسر نے پیٹ میں تکلیف کا بہانہ بنا کر فوجیوں کے اجتماع سے دور جانے کی کوشش کی۔ کچھ ہی دیر بعد یوکرینی میزائلوں نے اس مقام کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں 68 روسی فوجی ہلاک اور 60 زخمی ہوئے۔

یہ واقعہ اس کی خفیہ سرگرمیوں کا اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ بعد میں بھی اس نے روسی فوج کے متعدد مقامات اور کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر یوکرینی فورسز نے مزید حملے کیے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد روسی فوجی مارے گئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسٹوپنیکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ کی بڈیونی ملٹری اکیڈمی آف سگنل کور سے تربیت حاصل کی تھی۔ روسی فوج میں شمولیت کے بعد اسے یوکرین کے مشرقی محاذ پر بھیجا گیا، جہاں اس کے دستے کو ووہلیدار کے علاقے میں فوجی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین کے خلاف روسی فوجی کارروائیوں پر اس کے تحفظات وقت کے ساتھ بڑھتے گئے۔ اس کی والدہ تاتیانا بھی جنگ کی مخالف تھیں اور انہوں نے اپنے بیٹے کو روسی فوج سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے یوکرینی رابطوں سے بات چیت کی۔

فروری 2024 میں اس کی والدہ نے دمترو کارپینکو نامی شخص سے رابطہ کیا، جو یوکرینی فوجی انٹیلی جنس کے ساتھ کام کررہا تھا۔ اسی رابطے کے ذریعے روسی افسر نے خفیہ معلومات کی فراہمی شروع کی اور بعد میں یوکرین فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔

اسٹوپنیکوف کی سرگرمیوں کے دوران روسی فوج کے اندر بھی معلومات افشا ہونے کے خدشات پیدا ہونے لگے۔ مسلسل کامیاب یوکرینی حملوں کے بعد بعض روسی کمانڈروں کو شبہ ہوا کہ فوج کے اندر کوئی شخص حساس معلومات مخالف فریق کو فراہم کررہا ہے۔

ایک موقع پر اسٹوپنیکوف نے روسی فوج کے ایک نئے ہیڈکوارٹر کی معلومات یوکرینی رابطہ کار کو بھیجنے کی کوشش کی، تاہم غلطی سے اپنے ہی زیر زمین مقام کے کوآرڈینیٹس منتقل کردیے۔ کچھ دیر بعد اس مقام پر حملہ ہوا جس میں وہ خود بھی بال بال بچ گیا۔

روسی فوج کے اندر شکوک بڑھنے کے بعد اسٹوپنیکوف نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ جولائی 2024 میں یوکرینی رابطہ کار کی مدد سے وہ روسی فوج کے زیر کنٹرول علاقے سے نکل کر یوکرینی حدود میں پہنچ گیا۔

یوکرین پہنچنے کے بعد اس نے روسی فوج کے مواصلاتی نظام سے متعلق مزید معلومات اور رسائی فراہم کی، جن میں ڈرونز اور نگرانی کے کیمروں کی لائیو ویڈیو تک رسائی بھی شامل تھی۔

بعد ازاں وہ روسی رضاکار کور میں شامل ہوگیا، جو یوکرین کی جانب سے روسی حکومت کے خلاف لڑنے والے روسی شہریوں پر مشتمل ایک مسلح گروپ ہے۔

اسٹوپنیکوف کے اس فیصلے سے اس کی ذاتی زندگی بھی شدید متاثر ہوئی۔ اس کی اہلیہ نے اس کے اقدام کو روس اور ان کے ازدواجی تعلق سے غداری قرار دیا، جبکہ دونوں کے درمیان رابطہ بھی ختم ہوگیا۔

اس واقعے کی تفصیلات اکتوبر 2026 میں سامنے آئی ہیں، تاہم خفیہ معلومات کی فراہمی اور روسی فوج سے فرار ہونے کے واقعات 2024 کے ہیں۔ روسی حکام کی جانب سے رپورٹ میں بیان کیے گئے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔