لاہور میں سموگ کے خاتمے کے لیے سخت کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے تحت دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کی ہدایت پر سموگ تدارک مہم کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے جائیں گے جبکہ کمرشل گاڑیوں کے روٹ پرمٹ بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انسانی صحت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ بغیر ترپال مٹی اور ریت لے جانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کا شہر میں داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق سموگ مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں، 1401 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ بغیر ترپال اور غیر محفوظ طریقے سے سامان لے جانے والی 53 ہزار سے زائد گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ اسی طرح خستہ حال اور بغیر فٹنس گاڑیوں کے خلاف بھی ایک لاکھ 88 ہزار سے زائد کارروائیاں کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی چیکنگ جاری ہے اور تمام ڈی ایس پیز کو سخت کارروائیوں کی ہدایت کی گئی ہے۔ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو بہتری کے لیے مراسلے بھی ارسال کیے گئے ہیں۔