قلعہ عبداللہ میں خونی تصادم،ڈپٹی کمشنر خود میدان میں آگئے
قلعہ عبداللہ میں خونی تصادم،ڈپٹی کمشنر خود میدان میں آگئے
قلعہ عبداللہ/ کوئٹہ (نمائندہ خصوصی)ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے کلی بدون میں دو مسلح گروہوں کے درمیان خوفناک فائرنگ کے نتیجے میں نامور کمانڈر عبیداللہ اپنے چار ساتھیوں سمیت جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے جبکہ جاں بحق ہونے والے چار نوجوانوں کی میتیں پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ روانہ کر دی گئی ہیں، جہاں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملا کاکوزئی نامی شخص نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کمانڈر عبیداللہ کے خاندان کے ساتھ ان کی پرانی خاندانی دشمنی چلی آ رہی تھی، اور یہ کارروائی اسی دیرینہ تنازع کے تناظر میں کی گئی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ان افواہوں کی ملا کاکوزئی نے سخت تردید کی ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ کمانڈر عبیداللہ اور ان کے ساتھی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے؛ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے میں پولیس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
واقعے کے فوراً بعد ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے قبائلی مشران، معززین اور عوام کے نام ایک انتہائی اہم اور ہنگامی پیغام جاری کیا ہے۔ ڈی سی منور مگسی نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں امن و امان کا قیام ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے ملکی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں:
غیر قانونی تارکینِ وطن اور اسلحہ پر پابندی: ضلع میں مقیم کسی بھی غیر قانونی افغان شہری یا غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی ہوگی۔
سہولت کاروں کے خلاف ایکشن: تمام مقامی افراد، زمینداروں اور مالک مکانات کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی افغان شہریوں یا غیر مقامی افراد کو رہائش، سیکیورٹی گارڈ کی نوکری یا زمین داری کے لیے ہرگز نہ رکھیں، بصورتِ دیگر مالک مکان کو گرفتار کر کے اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
قبائلی دشمنیوں میں پناہ دینے پر پابندی: ڈی سی نے قبائلی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ ذاتی یا قبائلی دشمنی رکھنے والے مسلح عناصر کو اپنے درمیان پناہ نہ دیں۔ ایسے عناصر کی معاونت یا سہولت کاری کرنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی قلعہ عبداللہ کا امن تباہ کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مقامی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے نوجوانوں کو سڑکوں پر غیر ضروری ہجوم اور احتجاج سے دور رکھیں، قانون کی پاسداری کریں اور امن و امان کی بحالی کے لیے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔