اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026 سے 2031 کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس میں گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس کم کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور مقامی آٹو انڈسٹری کی برآمدات بڑھانے کے لیے اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ تاہم پالیسی پر عمل درآمد کے لیے وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری ابھی باقی ہے۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے نئی پالیسی کا حتمی مسودہ وزیراعظم کو پیش کیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے منگل کو اس کی منظوری دی، تاہم وزیراعظم آفس کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مجوزہ پالیسی کا مقصد پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینا، مقامی پیداوار میں بہتری لانا اور برآمدات بڑھانا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کے لیے ٹیکس اور فنانسنگ کی سہولتیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔
مسودے میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں اور مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے درآمد ہونے والی پرزوں کی کٹس پر محصولات بتدریج کم کرنے کی تجویز ہے۔ منصوبے کے مطابق مالی سال 2030-31 تک ان محصولات کو 15 فیصد کی سطح پر لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجوزہ ٹیکس نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں شامل ہیں۔ مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں پر 2026 سے 2031 تک ایک فیصد سیلز ٹیکس رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 75 ہزار ڈالر سے زیادہ قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ دوسری جانب 15 ہزار ڈالر سے کم قیمت والی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے درآمدی محصولات میں مزید رعایت دینے کا منصوبہ بھی مسودے میں شامل ہے۔
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک فنانسنگ کی حد بڑھانے کی تجویز بھی منظور کی ہے۔ اس کے تحت قرض کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور واپسی کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز ہے۔
ان تبدیلیوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ تاہم خریداروں کو عملی طور پر کتنا فائدہ ہوگا، اس کا انحصار گاڑیوں کی قیمتوں، بینکوں کی شرائط اور نئی پالیسی کے حتمی نفاذ پر ہوگا۔
پانچ سالہ منصوبے میں گاڑیوں اور ان کے پرزوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے تقریباً 6 ارب ایک کروڑ ڈالر کا مجموعی ہدف رکھا گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں 25 کروڑ 66 لاکھ ڈالر اور 2027-28 میں 67 کروڑ 18 لاکھ ڈالر کی برآمدات کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
اسی طرح 2028-29 کے لیے ایک ارب 11 کروڑ ڈالر، 2029-30 کے لیے ایک ارب 17 کروڑ ڈالر اور 2030-31 کے لیے دو ارب 19 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار مستقبل کے حکومتی اہداف ہیں، اب تک حاصل ہونے والی برآمدات نہیں۔
نئی پالیسی میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے برآمدی اہداف مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اہداف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کے پانچ فیصد کے برابر مراعات دی جاسکیں گی، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد ترغیب دینے کا منصوبہ ہے۔
دوسری جانب برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی تجاویز بھی مسودے کا حصہ ہیں۔ مسلسل دو سال تک مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ کمپنی کا مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کیا جاسکے گا۔
پالیسی میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے آٹو پارٹس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے بھی اہداف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ ان شرائط پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کو حکومتی مراعات سے محروم کیا جاسکتا ہے۔
حکومت نے آٹو موٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے ذریعے پانچ سال میں 232 ارب روپے سے زیادہ رقم جمع کرنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔ یہ لیوی ایک ہزار سی سی سے زیادہ انجن والی گاڑیوں پر عائد کرنے کی تجویز ہے۔
مجوزہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے، صنعتی ترقی اور مقامی آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے پاکستان آٹو موٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ یہ ادارہ گاڑیوں کے معائنے، معیار کی تصدیق اور بین الاقوامی حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد میں کردار ادا کرے گا۔
تاہم نئی پالیسی کی بعض تجاویز پر مقامی آٹو پارٹس بنانے والی صنعت نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین عبدالرحمان اعزاز نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی پرزوں پر محصولات 15 فیصد تک کم کرنے سے مقامی صنعت متاثر ہوسکتی ہے۔
ان کے مطابق ابتدا میں اس فیصلے سے گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن درآمدی گاڑیوں کے ساتھ مقابلہ بڑھنے کی صورت میں مقامی اسمبلرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
عبدالرحمان اعزاز نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر درآمدی پرزوں پر انحصار بڑھا تو پاکستان میں گاڑیوں اور پرزوں کی مقامی تیاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ملک ایک بڑی درآمدی منڈی بن کر رہ سکتا ہے۔
نئی آٹو پالیسی کا مسودہ اب وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ اس لیے الیکٹرک گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکس رعایت، قرض کی نئی حد اور درآمدی ڈیوٹی میں کمی کو فی الحال نافذ شدہ فیصلے کے بجائے زیر غور تجاویز سمجھا جائے۔