اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں، تاہم سیاسی دباؤ یا عدم استحکام کے ذریعے مطالبات تسلیم نہیں کرائے جاسکتے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا کہ وہ ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر لانگ مارچ ختم کرے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اپوزیشن، پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کو سیاسی عدم استحکام سے گریز اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی دعوت دے چکے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی پر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو دباؤ میں لاکر مطالبات منوانے کا طریقہ قابل قبول نہیں، تاہم حکومت سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دے رہی ہے۔
دہشت گردی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی پہلے سے موجود ہے اور دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایسے نئے آپریشن کا منصوبہ نہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔
رانا ثنااللہ نے خیبرپختونخوا حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے اور وفاق تمام صوبائی حکومتوں سے اس سلسلے میں تعاون چاہتا ہے۔