دنیا بھر میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے تشویش ناک اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں اس مرض سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کے تخمینوں کے مطابق 2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے سالانہ نئے کیسز کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے، جو 2022 کے مقابلے میں تقریباً 77 فیصد زیادہ ہوگی۔
اعدادوشمار کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 2 کروڑ نئے کیسز سامنے آئے تھے، جبکہ اس مرض کے باعث تقریباً 97 لاکھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
عالمی اداروں کے مطابق کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی بڑی وجوہات میں دنیا کی آبادی میں اضافہ، عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بیماری کے خطرے میں اضافہ کرنے والے مختلف عوامل شامل ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شخص کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر لاحق ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر نو میں سے ایک مرد اور ہر 12 میں سے ایک خاتون کی موت اس بیماری کے باعث ہوسکتی ہے۔
کینسر کی کون سی اقسام زیادہ عام ہیں؟
عالمی اعدادوشمار کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی اقسام میں سرفہرست ہے۔ 2022 میں اس کے تقریباً 25 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جو مجموعی کیسز کا 12.4 فیصد تھے۔
اس کے علاوہ چھاتی، بڑی آنت، پروسٹیٹ اور معدے کے کینسر بھی دنیا بھر میں عام پائے جانے والے سرطان کی اہم اقسام میں شامل ہیں۔
پھیپھڑوں کا کینسر اس مرض سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین نے کن عوامل سے خبردار کیا؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی، شراب نوشی اور موٹاپا کینسر کے خطرے میں اضافہ کرنے والے اہم عوامل ہیں، جبکہ مختلف ممالک میں بیماری کے پھیلاؤ کی شرح آبادی اور سماجی و معاشی حالات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کینسر کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولیات میں بہتری نہ لائی گئی تو مستقبل میں صحت کے نظام پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عوامی آگاہی، صحت مند طرزِ زندگی، بروقت طبی معائنوں اور علاج کی سہولیات تک رسائی بہتر بنا کر کینسر کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس سے ہونے والی اموات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔