کراچی: قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں شدید درد سے نجات کے لیے استعمال ہونے والی دوا مورفین کے ہزاروں انجکشن استعمال نہ ہونے کے باعث زائدالمیعاد ہوگئے ہیں۔ اسپتال کے دستاویزی ریکارڈ سے سامنے آنے والے اس معاملے نے ادویات کی خریداری، طلب کے تخمینے اور ذخیرے کی نگرانی سے متعلق اہم سوالات پیدا کردیے ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق اسپتال کے لیے مختص کیے گئے مورفین کے مجموعی طور پر 6 ہزار انجکشن میں سے 3 ہزار 191 اپنی مقررہ مدت کے اندر استعمال نہیں ہوسکے۔ اس طرح مجموعی ذخیرے کا تقریباً 53 فیصد حصہ زائدالمیعاد ہوگیا۔
دستاویزی ریکارڈ میں کیا انکشاف ہوا؟
اسپتال کے فارماسسٹ طلحہ محبوب خان نے 24 دسمبر 2025 کو اسسٹنٹ منیجر فارمیسی سروسز صائمہ سلیم کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ نارکوٹکس کیبنٹ میں مورفین کے 3 ہزار 191 انجکشن موجود ہیں، جن کی میعاد 30 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ہے۔
اس وقت ان ادویات کے استعمال کی مقررہ مدت ختم ہونے میں صرف چھ روز باقی تھے۔
ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 تک اسپتال میں مورفین کے 2 ہزار 809 انجکشن استعمال ہوئے، جبکہ باقی بڑی مقدار مقررہ مدت گزرنے تک ذخیرے میں موجود رہی۔
مورفین ایک طاقتور دوا ہے جو طبی نگرانی میں شدید درد کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ بعض پیچیدہ طبی حالات اور سرطان کے مریضوں میں بھی اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
انتظامیہ نے مالی نقصان کی تردید کردی
این آئی سی وی ڈی کے ترجمان عبدالنصیر نے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجکشن زائدالمیعاد ہونے کے باوجود سرکاری خزانے کو مالی نقصان نہیں پہنچے گا۔
ان کے مطابق فراہم کنندہ کمپنی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد زائدالمیعاد انجکشن کے بدلے نئے انجکشن بغیر کسی اضافی ادائیگی کے فراہم کرے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ مورفین قانونی طور پر کنٹرول کی جانے والی دوا ہے، جس کی خریداری، ذخیرہ کرنے، استعمال اور واپسی کے لیے مخصوص ضابطوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ انجکشن درآمدی کھیپوں کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں عام ادویات کی طرح فوری طور پر واپس نہیں کیا جاسکتا۔
نئے انجکشن کب فراہم ہوں گے؟
اسپتال انتظامیہ کے مطابق زائدالمیعاد انجکشن کی واپسی سے پہلے متعلقہ ڈرگ انسپکٹر کا معائنہ، ادویات کی تصدیق اور دیگر قانونی مراحل مکمل کرنا ضروری ہے۔
ان کارروائیوں کے بعد کمپنی متبادل انجکشن فراہم کرے گی۔ تاہم نئے انجکشن کی فراہمی کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ادویات کی وصولی، ذخیرہ کرنے اور مریضوں کے لیے اجرا کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انوینٹری مینجمنٹ سسٹم اور اسٹاک رجسٹر موجود ہیں، جبکہ مورفین جیسی کنٹرول شدہ ادویات کے لیے اضافی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔
ادویات کی نگرانی کے نظام پر سوالات
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ ادویات کے استعمال اور ذخیرے کا ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں انجکشن اپنی میعاد ختم ہونے تک کیوں باقی رہے۔
یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے اضافی ذخیرے کے بارے میں کیا اقدامات کیے گئے تھے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے کیا انتظامات کیے جائیں گے۔
اگرچہ اسپتال انتظامیہ نے متبادل انجکشن کی بلااضافہ فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم اس عمل کی تکمیل اور نئے ذخیرے کی دستیابی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔