پشاور: خیبرپختونخوا میں امن و امان، انتظامی امور، عوامی سہولیات اور معاشی استحکام کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کرلیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے کے 27 محکموں میں 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں تعلیم، صحت، شہری سہولیات، روزگار، توانائی اور ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 100 سے 180 روز کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس کا دائرہ صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں کے ساتھ ضم شدہ اضلاع تک پھیلانے کی تجویز ہے، جہاں امن و امان کی بہتری اور بنیادی خدمات کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ایکشن پلان کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، عوام کو درپیش روزمرہ مسائل کم کرنا اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم یہ اقدامات فی الحال تجاویز کی صورت میں سامنے آئے ہیں اور ان کے مکمل نفاذ یا حتمی منظوری کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مجوزہ منصوبے میں شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت تقریباً 1150 اہم سڑکوں کی تعمیر و مرمت، 8 ہزار کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگانے اور 4 ہزار مقامات پر صفائی کے انتظامات بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
اسی طرح تقریباً 150 بند نالوں اور نکاسی آب کے راستوں کو کھولنے اور 80 پارکوں کی بحالی کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شہری علاقوں میں صفائی، آمدورفت اور تفریحی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔
پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں بازاروں اور سرکاری عمارتوں کی خوبصورتی، اہم شاہراہوں پر شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور ٹریفک کے مسائل کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
پشاور کے 20 مصروف ترین ٹریفک مقامات پر بہتری لانے، رنگ روڈ کے نامکمل حصوں پر کام کرنے اور جی ٹی روڈ کی مرمت و تزئین کی تجویز دی گئی ہے۔ بنوں بائی پاس کی تعمیر و بہتری اور غیر فعال واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی بہتر بنانے اور مریضوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں 250 صحت مراکز پر چوبیس گھنٹے خدمات کی فراہمی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔
منصوبے کے مطابق سرکاری صحت مراکز میں ضروری ادویات کی دستیابی کم از کم 80 فیصد تک یقینی بنانے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ڈیڑھ ہزار اسکولوں کی حالت بہتر بنانے اور تقریباً 7 لاکھ طلبہ کے لیے فرنیچر کی کمی پوری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ایسے سرکاری اسکولوں کو فائدہ پہنچانے کا منصوبہ ہے جہاں بنیادی سہولیات ناکافی ہیں۔
کم کارکردگی والے اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز بھی ایکشن پلان میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ضم شدہ اضلاع میں تباہ یا غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے مواقع بڑھانے کی غرض سے بلاسود قرضوں اور فنی تربیت کے پروگرام تجویز کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں ایسی مہارتیں سکھانے پر زور دیا گیا ہے جن سے نوجوانوں کو ملازمت حاصل کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد مل سکے۔
سرکاری عمارتوں میں نوجوانوں کے مراکز قائم کرنے، کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد اور جامعات میں تحقیق اور کاروباری منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔ جنوبی خیبرپختونخوا میں ریسکیو 1122 کی خدمات کو وسعت دینے اور کھیلوں کے میدان بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں 65 ہزار گھرانوں کو شمسی توانائی کے گھریلو نظام حاصل کرنے کے لیے رعایتی مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سہولت میں خصوصاً بیواؤں اور معاشی طور پر محروم خاندانوں کو ترجیح دینے کا منصوبہ ہے۔
معدنیات کے شعبے میں کان کنوں کے طبی معائنے، فنی تربیت اور کان کنی سے متعلق ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ کانوں میں حادثات کی صورت میں فوری امداد کے لیے کوہاٹ، ایبٹ آباد اور بونیر میں خصوصی مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
منصوبے میں ضم شدہ اضلاع اور دیگر علاقوں کے انتظامی مسائل حل کرنے، عوامی خدمات تک رسائی بہتر بنانے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مؤثر کرنے کو بھی اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ پروگرام کے لیے ’مستحکم خیبرپختونخوا‘ اور ’خیبرپختونخوا 180 روزہ اسٹریٹجک ایکشن پلان‘ جیسے نام زیر غور ہیں۔
صوبے کے لیے تیار کردہ اس منصوبے میں عوامی سہولیات سے متعلق کئی اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں، تاہم ان کی عملی کامیابی کا انحصار متعلقہ حکام کی حتمی منظوری، مالی وسائل کی دستیابی اور مقررہ مدت میں مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔