گوجرانوالہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کا ایک بار پھر دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث وفاق کے پاس یہ قدم اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
ہفتے کو گوجرانوالہ میں سابق رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مرحوم مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمود بشیر ورک کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وہ رشید بشیر ورک کی رہائش گاہ پہنچے تھے، جہاں تعزیت کے بعد انہوں نے وفاقی حکومت کے حالیہ فیصلوں اور تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعظم کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے پہلے سیاسی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ وفد نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا آخری مرحلہ بھی سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا اور فریقین نے تقریباً 48 گھنٹے تک مختلف معاملات پر بات چیت کی۔ ان کے مطابق حکومتی وفد کی کوشش تھی کہ تمام اختلافات کا قابلِ قبول حل نکالا جائے اور سیاسی کشیدگی ختم ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایک مسودہ بھی تیار ہوگیا تھا، جس کے تحت تحریک انصاف کو اپنا مجوزہ لانگ مارچ ختم کرنا تھا۔ تاہم بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور بھی کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔ دونوں فریق دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی سمیت اہم معاملات پر اختلافات دور نہیں کرسکے تھے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان سے پہلے وزیراعلیٰ رہنے والے علی امین گنڈاپور سے بھی متعدد ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں صوبے کی ترقی، عوامی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بات چیت ہوئی۔
شہباز شریف کے مطابق انہوں نے ہر ملاقات میں صوبائی قیادت کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک خوبصورت صوبہ ہے اور وہاں کے عوام بہادر اور باوقار ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کے عوام کی بہتری اور ترقی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے اور انتظامی معاملات، وسائل کی فراہمی اور دیگر ضروری فیصلوں میں وزیراعلیٰ سے مشاورت کی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کے اہلکار اور افسران مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں تمام حکومتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر یکجا ہوتیں۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی بار بار کوششوں کے باوجود اسے صوبائی قیادت کی جانب سے تعاون کے بجائے احتجاجی مارچ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے تحریک انصاف کے ماضی کے احتجاجی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے 2014 میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر دیے گئے دھرنے کو بھی یاد کیا، جو ان کے بھائی اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ہوا تھا۔
شہباز شریف نے نومبر 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والے تحریک انصاف کے احتجاج کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس موقع پر دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے تھے اور تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔
وزیراعظم نے حالیہ مجوزہ لانگ مارچ کے بارے میں بھی الزام لگایا کہ اس کے دوران خونریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ان کے اس الزام کی آزادانہ تصدیق متعلقہ بیان میں پیش نہیں کی گئی۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج 11 اکتوبر کو نافذ کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو قرار دیا تھا۔
وفاقی کابینہ کی سفارش کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے بھی ان فیصلوں کی توثیق کردی، تاہم اپوزیشن نے اس اقدام کی مخالفت کی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سرحد پار سے دراندازی کے معاملات نے قومی سلامتی کے لیے سنگین صورتحال پیدا کردی تھی، جس کے باعث غیر معمولی آئینی اقدامات ضروری ہوگئے تھے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پارٹی نے ان اقدامات کو متعلقہ قانونی اور سیاسی فورمز پر چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا سے متعلق اہم سکیورٹی فیصلوں میں صوبائی حکومت کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ پارٹی دہشت گردی کے خلاف موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو سکیورٹی فیصلوں سے الگ رکھنے کے الزام کی تردید کی ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان افغان طالبان سے مذاکرات کے معاملے اور دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی پر بھی اختلافات موجود ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلے کے آئینی جواز پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صوبے کے سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت نے بات چیت اور تعاون کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے، لیکن ان کوششوں کے ناکام ہونے اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا ناگزیر ہوگیا۔
خبر وزیراعظم کے 17 اکتوبر کے خطاب، ایمرجنسی کے سرکاری فیصلے اور پارلیمانی کارروائی کی تصدیق شدہ تفصیلات پر مبنی ہے۔