کراچی: پاکستانی فلم اور ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ حریم فاروق نے اپنی آنے والی پنجابی فلم ’مینگو جٹ‘ میں اپنے کردار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فلم کے ذریعے پنجابی خواتین کی ایک مختلف اور منفرد تصویر پیش کرنا چاہتی ہیں۔
اداکارہ کے مطابق فلم میں ان کا کردار پنجابی خواتین کی اس روایتی عکاسی سے مختلف ہوگا جو عموماً سینما میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
حریم فاروق نے کہا کہ ’مینگو جٹ‘ کے ذریعے پنجابی سینما میں کہانی اور کرداروں کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پنجابی خواتین کے کردار سے متعلق حریم فاروق کا مؤقف
حریم فاروق کا کہنا ہے کہ وہ فلم میں پنجابی عورت کی شخصیت کو روایتی انداز سے ہٹ کر پیش کرنا چاہتی ہیں تاکہ ناظرین خواتین کے کردار کا ایک مختلف پہلو دیکھ سکیں۔
اداکارہ کے مطابق فلم کی کہانی اور کرداروں میں ایسا انداز اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو عام پنجابی فلموں سے مختلف محسوس ہو۔
ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی نئی فلم میں کردار کی انفرادیت کو اہمیت دے رہی ہیں۔
فیصل قریشی اور حریم فاروق پہلی بار اس انداز میں
فلم ’مینگو جٹ‘ میں معروف اداکار فیصل قریشی حریم فاروق کے مقابل مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔
دونوں فنکاروں کی موجودگی کے باعث فلم کی تشہیری مہم میں ان کے کرداروں کو نمایاں کیا جارہا ہے۔
فلم کی ٹیم اسے روایتی پنجابی سینما سے مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم کہانی اور کرداروں کی کامیابی کے بارے میں ناظرین کی رائے ریلیز کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
فلم کب ریلیز ہوگی؟
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ’مینگو جٹ‘ کو 16 اکتوبر کو پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک میں بھی ریلیز کیا جائے گا۔
فلم کی تشہیری سرگرمیاں جاری ہیں اور اداکار اپنے کرداروں اور فلم کے مختلف پہلوؤں سے متعلق گفتگو کررہے ہیں۔
حریم فاروق کے مطابق یہ فلم پنجابی سینما میں خواتین کے کردار کو ایک مختلف انداز سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ ریلیز کے بعد ناظرین اس نئے انداز کو کس طرح قبول کرتے ہیں۔