مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:15 ظہر 12:18 عصر 4:22 مغرب 6:00 عشاء 7:20
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بین الاقوامی

ایران پر جوہری حملہ ہوگا یا امریکی فوج اترے گی؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم اعلان

امریکی صدر نے دونوں امکانات مسترد کردیے، تاہم ایران کی اہم تنصیبات پر طاقتور غیر جوہری بم استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آگئیں

امریکی صدر نے نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور امریکا کی فوجی حکمت عملی پر بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی فوجی دستے تعینات کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران پر جوہری حملہ ہوگا یا امریکی فوج اترے گی؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق امریکا اس حوالے سے روس اور چین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی ممکنہ منصوبہ بندی سے متعلق خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق پینٹاگون ایران کے توانائی کے نظام اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لے چکا ہے۔

امریکی میڈیا نے منصوبہ بندی سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ زیر غور امکانات میں امریکا کے سب سے طاقتور غیر جوہری بم جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ، جسے ایم او اے بی کہا جاتا ہے، کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔

یہ بم عام طور پر ’مدر آف آل بمز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور امریکی اسلحہ خانے میں موجود انتہائی طاقتور غیر جوہری ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم اس کے ممکنہ استعمال سے متعلق اطلاعات کو کسی حتمی فوجی فیصلے یا حملے کے حکم کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اس نوعیت کے طاقتور ہتھیار کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور پہلے سے جاری تنازع زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔

اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اتنی زیادہ تباہ کن طاقت رکھنے والا بم کسی اہم فوجی مقصد کے حصول میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوسکتا ہے اور آیا اس کے استعمال سے جنگ کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی آسکے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے زمینی فوج اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کے باوجود ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد امریکا کی آئندہ فوجی حکمت عملی پر توجہ مرکوز ہے۔