زیارت آپریشن کامیاب، 15 دہشت گرد ہلاک،شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، سرفراز بگٹی
کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے ضلع زیارت میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کی کامیابی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زیارت میں کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن میں دہشت گردوں کی ہلاکت پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کے بہادر جوانوں نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے فرض کی ادائیگی میں لازوال قربانیوں کی مثال قائم کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کے شہداء کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے، ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہر شہید کے خون کا حساب لیا جائے گا۔
معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے بتایا کہ زیارت میں ہونے والے کامیاب کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف لڑتے ہوئے بلوچستان پولیس کے 9 افسران اور اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورکس کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
دوسری جانب معاون وزیراعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات شاہد رند نے بتایا کہ ایف سی، بلوچستان پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، اسپیشل آپریشنز ونگ (ایس او ڈبلیو) اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) نے مشترکہ کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد حملے میں بلوچستان پولیس کے 9 افسران و اہلکار شہید ہوئے، جن میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کاوس، اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں۔
شاہد رند کے مطابق ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے، جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں۔
بلوچستان حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے میں امن، ترقی اور استحکام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا، ریاست کی عملداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور دہشت گردی کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی