Tameerewatan
tameerewatan

کے ٹو ایئرویز کارگو طیارہ حادثہ: آخری لمحوں میں اے ٹی سی سے کیا گفتگو ہوئی؟

کے ٹو ایئرویز کارگو طیارہ حادثہ: آخری لمحوں میں اے ٹی سی سے کیا گفتگو ہوئی؟

کراچی: شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں عملے کے پانچوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئر کریش انویسٹی گیشن بیورو نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ (فلائٹ نمبر KTA1732، رجسٹریشن AP-BOI) شارجہ سے کراچی آ رہا تھا۔ رات 9 بج کر 18 منٹ پر کراچی سے تقریباً 150 ناٹیکل میل جنوب میں پرواز کے دوران پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے رہنمائی طلب کی۔

اے ٹی سی نے طیارے کو موجودہ سمت برقرار رکھنے کی ہدایت کی، لیکن چند لمحوں بعد طیارہ اچانک دائیں جانب مڑنے لگا اور تیزی سے بلندی کھونے لگا۔ کنٹرول ٹاور کی جانب سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ رات 9 بج کر 21 منٹ پر کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارہ ریڈار اور مواصلاتی رابطے سے غائب ہوگیا۔

ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن کے دوران سمندر سے طیارے کا ملبہ برآمد کر لیا، جبکہ عملے کے پانچوں افراد کی لاشیں بھی نکال کر اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں کیپٹن محمد رضوان ادریس، کو پائلٹ فیصل جتوئی، فلائٹ انجینئر محمد حامد، فلائٹ انجینئر محمد عارف صدیق اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔ تمام افراد پاکستانی شہری تھے اور دورانِ ڈیوٹی حادثے کا شکار ہوئے۔

ایئر ٹریفک کنٹرول ذرائع کے مطابق پائلٹ نے حادثے سے قبل کوئی “مے ڈے کال” نہیں دی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہنگامی صورتحال اچانک پیدا ہوئی اور عملے کو مدد کی باضابطہ درخواست دینے کا موقع نہ مل سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ طیارہ فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں نجی کمپنی Northern Techniques نے اس کی مرمت کی۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد طیارہ فیری فلائٹ کے ذریعے کراچی واپس آ رہا تھا کہ یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More