کوئٹہ خون آلود: ہنہ اوڑک حملے میں ایک اور لاش گر گئی
کوئٹہ خون آلود: ہنہ اوڑک حملے میں ایک اور لاش گر گئی
کوئٹہ کے تفریحی مقام ہنہ اوڑک میں ہونیوالے حالیہ مسلح حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک اور مقامی رہائشی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔
اس اندوہناک واقعے کے خلاف علاقہ مکینوں اور لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جس کے خلاف گزشتہ رات سے شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دوسرے روز بھی بدستور جاری ہے۔
مظاہرین نے شہداء کی لاشیں سڑک پر رکھ کر بی اے مال کے سامنے ایئرپورٹ روڈ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے۔ کوئٹہ کی اس انتہائی اہم شاہراہ کی بندش کے باعث شہر کا ٹریفک نظام شدید درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دھرنے میں شامل علاقہ مکینوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج مطالبات کی منظوری تک ختم نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا:”جب تک اس بزدلانہ حملے کے ملزمان کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور علاقے میں پائیدار امن قائم کرنے کی ٹھوس یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، تب تک راستہ بدستور بلاک رہے گا اور دھرنا جاری رہے گا۔”
علاقہ مکینوں کے مطابق ہنہ اوڑک جیسے پرامن اور تفریحی علاقے میں مسلح حملہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام، کور کمانڈر بلوچستان اور وزیراعلیٰ سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور ملوث عناصر کو فی الفور قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔