Tameerewatan
tameerewatan

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی APNS کا حکومت بلوچستان میڈیا پالیسی واپس لینے اور میڈیا تنظیموں کی باہمی مشاورت سے نئی میڈیا پالیسی تشکیل کا مطالبہ

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی APNS کا حکومت بلوچستان میڈیا پالیسی واپس لینے اور میڈیا تنظیموں کی باہمی مشاورت سے نئی میڈیا پالیسی تشکیل کا مطالبہ

کراچی ( پ ر) حکومت بلوچستان نے “بلوچستان ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026ء” یکم جولائی سے نافذ کر دیا ہے۔جبکہ اس یکطرفہ پالیسی پر میڈیا تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس پالیسی میں “2023ء کی پالیسی میں ترمیم” کے بعد طے کیا گیا ہے کہ تمام “ٹینڈر نوٹس، نیلامی کے نوٹس، پری کوالیفکیشن نوٹسز اور اظہار دلچسپی (EOI) کے اشتہارات “صرف بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA)” کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے۔

اس پالیسی کا مقصد مذکورہ اشتہارات کی اخبارات میں اشاعت محدود کرنا ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی اخباری صنعت کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومت اور پریس کے درمیان موجود خوشگوار تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ اس قسم کی پالیسی پہلے حکومت پنجاب نے بھی نافذ کی تھی، لیکن “آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS)” کے احتجاج اور درخواست پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ازراہ کرم اس پالیسی کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ ملک کے کسی صوبے میں ایسی پالیسی نافذ العمل نہیں ہے۔

اے پی این ایس سمجھتی ہے کہ نئی اشتہاری پالیسی کے ذریعے صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان فاصلے پیدا ہوں گے اور حکومت اور پرنٹ میڈیا کے درمیان خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارا پختہ موقف ہے کہ اخبارات میں ٹینڈر نوٹسز کی اشاعت بند کرنے سے نہ صرف اخبارات کی اشتہاری آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ ممکنہ بولی دہندگان بھی اس اہم عوامی معلومات تک بروقت رسائی سے محروم ہو جائیں گے، جس کے باعث وہ سرکاری خریداری (Procurement) کے عمل میں مؤثر انداز میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ مزید برآں اس سے بدعنوانی کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔

لہذا یہ اقدام “شفافیت کے اصول” اور “پروکیورمنٹ قوانین” کے منافی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔

اے پی این ایس مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت بلوچستان حکومت اور پریس کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس پالیسی کو واپس لے اور میڈیا تنظیموں کی باہمی مشاورت سے نئی میڈیا پالیسی تشکیل دے تاکہ صوبے کے اخبارات کو درپیش اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More