ہنہ اوڑک پر دہشتگردوں کا شب خون: غیرت مند عوام نے مقابلہ کر کے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا، سیکورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن
ہنہ اوڑک پر دہشتگردوں کا شب خون: غیرت مند عوام نے مقابلہ کر کے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا، سیکورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن
کوئٹہ: کوئٹہ کے پرامن علاقے ہنہ اوڑک میں گزشتہ رات اس وقت سنسنی پھیل گئی جب دہشتگردوں نے وہاں کے محب وطن شہریوں پر اچانک بزدلانہ حملہ کر دیا۔ لیکن دشمن یہ بھول گیا تھا کہ ان کا سامنا غیرت مند اور دلیر عوام سے ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو اور معاون خصوصی شاہد رند نے ہنگامی پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دہشتگردوں کا وہ تاریخی مقابلہ کیا کہ انہیں دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ کل رات انہوں نے خود علاقے کا دورہ کیا ہے، وہاں نئی چیک پوسٹ قائم کر دی گئی ہے کیونکہ دہشتگردوں کا اصل منصوبہ یہ تھا کہ خوف پھیلا کر عوام کو ہنہ اوڑک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، مگر ریاست ایسا کبھی ہونے نہیں دے گی۔
خونریز جھڑپ: 3 دہشتگرد ہلاک، 7 شہریوں کے اغوا پر فورسز کا بڑا ایکشن
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سخت ہدایات پر سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس دوران ہونے والی شدید جھڑپ میں 3 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں جبکہ اینٹی ٹیررازم فورس (ATF) کے 2 جری جوان زخمی ہوئے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ فرار ہوتے ہوئے دہشتگرد 7 معصوم شہریوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اس وقت سیکورٹی فورسز فل الرٹ اور ہائی ایکشن موڈ میں ہیں اور جب تک ایک ایک انچ کلیئر نہیں ہو جاتا اور مغویوں کو بازیابی نہیں کرا لیا جاتا، یہ سینیٹائزیشن آپریشن نہیں رکے گا۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے دشمن کے عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان دہشتگردوں کے پیچھے بھارت کی کھلی سپورٹ ہے اور افغانستان مسلسل اپنی سرزمین ان کے لیے استعمال ہونے دے رہا ہے۔ دوسری جانب، علاقے میں جاری عوامی احتجاج پر بات کرتے ہوئے معاون وزیر اعلیٰ شاہد رند نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے ایک ہائی پاور کمیٹی بنا دی ہے جس کی سربراہی خود وزیر داخلہ کریں گے تاکہ مظاہرین (جو کہ ہمارے اپنے لوگ ہیں) سے مذاکرات کر کے ان کے جائز تحفظات دور کیے جائیں۔
حکومت نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر نظر رکھنے والوں کو آخری وارننگ جاری کر دی ہے۔ شاہد رند کا کہنا تھا کہ اس حساس صورتحال میں جو بھی واٹس ایپ یا دیگر پلیٹ فارمز پر غیر مصدقہ، جھوٹی یا سنسنی خیز افواہیں پھیلائے گا، اس کے خلاف قانون کا لوہا حرکت میں آئے گا اور سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کے آخر میں سیاسی سوالات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبے میں مخلوط حکومت مضبوط ہے، سینیٹر منظور کاکڑ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہو سکتا ہے اور مسلم لیگ ن کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ کسے وزارت دیتی ہے۔