178 روپے کا پیٹرول عوام کو 297 روپے میں ملنے لگا،لیکن کیوں؟وجہ سامنے آگئی
178 روپے کا پیٹرول عوام کو 297 روپے میں ملنے لگا،لیکن کیوں؟وجہ سامنے آگئی
ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل بھاری لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی ہوش رُبا تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس کے مطابق عوام سے فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر 110 روپے سے زائد کے اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق، مارکیٹ میں ایک لیٹر پیٹرول کی اصل بنیادی لاگت محض 178 روپے 77 پیسے بنتی ہے، لیکن ٹیکسز اور مارجنز شامل ہونے کے بعد حکومت نے شہریوں کے لیے فی لیٹر قیمت 297 روپے 53 پیسے مقرر کر رکھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام سے ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 118 روپے 76 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرول کی اس قیمت میں 70 روپے 36 پیسے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 19 روپے 33 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، اور 6 روپے 86 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن شامل ہے۔ اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز کا مارجن 8 روپے 64 پیسے مقرر ہے۔
دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل لاگت 198 روپے 85 پیسے ہے، جبکہ شہریوں کو یہ 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت پر حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مجموعی طور پر 110 روپے 65 پیسے کی لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز وصول کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بھاری ٹیکسوں اور مارجنز کی وجہ سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔