مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:17 ظہر 12:17 عصر 4:18 مغرب 5:56 عشاء 7:16
آج کا ای پیپر ⁦20⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
پاکستان

امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اہم دورۂ تہران کی خبر

پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے، جہاں علاقائی کشیدگی اور سفارتی کوششیں اہم موضوعات ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے آج منگل کو تہران کے دورے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کی اطلاع دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہوسکیں۔
پاکستان رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوششوں کا بنیادی مقصد خطے میں جاری فوجی تصادم کا خاتمہ اور فریقین کو بات چیت کے ذریعے قابلِ قبول حل کی جانب لانا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس سے قبل بھی ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ رواں سال موسم گرما میں ہونے والی بات چیت میں علاقائی کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جاری تنازع جلد ختم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
تازہ دورے کی اطلاع ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں ممالک بات چیت کے دوبارہ آغاز کے خواہاں ہونے کے باوجود مذاکرات کی ترجیحات اور شرائط پر متفق نہیں ہوسکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی تجویز اب بھی موجود ہے، تاہم اس پر پیش رفت کا انحصار واشنگٹن کے ردعمل پر ہوگا۔
ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور خطے کے مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا بند ہونا شامل ہے۔ دوسری جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو مذاکرات میں ترجیح دینا چاہتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال یمن میں جاری لڑائی اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کے باعث بھی کشیدہ ہے۔ اس تناظر میں علاقائی سلامتی اور سفارتی رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر کشیدگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا، تاہم اسلام آباد نے سفارتی رابطے جاری رکھے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے قطر کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان اور قطر نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تعاون کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے متوقع دورۂ تہران کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے حتمی شیڈول یا دورے کے نتائج کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اہم دورۂ تہران کی خبر