اسلام آباد: دنیا کے 72 ممالک کی جیلوں میں مجموعی طور پر 21 ہزار 647 پاکستانی شہری قید ہیں، جن میں سب سے زیادہ پاکستانی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جیلوں میں موجود ہیں۔ یہ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردہ وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں سامنے آئی ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق مختلف ممالک میں قید پاکستانی شہریوں کی مجموعی تعداد 21 ہزار 647 ہے۔ ان افراد کے خلاف متعلقہ ممالک کے قوانین کے تحت مختلف نوعیت کے مقدمات اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
وزارت خارجہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جیلوں میں 5 ہزار 297 پاکستانی قید ہیں، جو فراہم کردہ تفصیلات میں کسی ایک ملک میں پاکستانی قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سعودی عرب اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 4 ہزار 775 پاکستانی شہری قید ہیں۔ اس طرح صرف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار 72 بنتی ہے، جو بیرون ملک قید پاکستانیوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 47 فیصد ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق بھارت کی مختلف جیلوں میں بھی 738 پاکستانی شہری قید ہیں، جنہیں مختلف مقدمات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان افراد کے مقدمات کی الگ الگ تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ بیرون ملک قید پاکستانی شہری مختلف نوعیت کے قانونی معاملات کا سامنا کررہے ہیں۔ ان میں دھوکہ دہی، منشیات کی اسمگلنگ، جنسی حملوں، جعلی ویزوں اور دستاویزات کے استعمال، قتل اور دیگر جرائم سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق پاکستانی شہریوں کے مقدمات متعلقہ ممالک کے قانونی اور عدالتی نظام کے تحت نمٹائے جارہے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجموعی تعداد میں کتنے افراد کو عدالتوں سے سزا سنائی جاچکی ہے اور کتنے ابھی مقدمات کی سماعت یا فیصلوں کے منتظر ہیں۔
قومی اسمبلی میں سامنے آنے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک میں موجود ہے۔ مجموعی طور پر 72 ممالک میں پاکستانی شہریوں کے زیرِ حراست ہونے کی تفصیلات وزارت خارجہ کی جانب سے ایوان کو فراہم کی گئی ہیں۔