مواد پر جائیں

کوئٹہ 19°C فجر 5:08 ظہر 12:21 عصر 4:33 مغرب 6:13 عشاء 7:33
آج کا ای پیپر 4 اکتوبر 2026 پڑھیں
بلوچستان

خواتین اور بچوں پر حملے پر بلوچ حقوق کے علمبردار خاموش کیوں؟ مینا مجید بلوچ

کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے ضلع کیچ کے علاقے الندور، بلیدہ میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر بیرونِ ملک بلوچ حقوق کے علمبردار خاموش کیوں ہیں۔

خواتین اور بچوں پر حملے پر بلوچ حقوق کے علمبردار خاموش کیوں؟ مینا مجید بلوچ

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مینا مجید بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بی ایل اے نے علاقے سے ایک 12 سالہ بچے کو اغوا کیا جبکہ ایک گھر میں گھس کر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق واقعے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کی ایک خاتون بلوچ عوام سے انصاف کیلئے آواز اٹھانے کی اپیل کررہی ہے، تاہم بیرونِ ملک خود کو بلوچ حقوق اور انسانی حقوق کا نمائندہ قرار دینے والے حلقوں کی جانب سے ایسے واقعات پر آواز سامنے آنی چاہیے۔

مینا مجید بلوچ نے کہا کہ اگر کوئی واقعی بلوچ حقوق کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے خلاف ہونے والے تشدد کی بھی بلاامتیاز مذمت کرنی چاہیے۔

صوبائی مشیر نے ناروے، کینیڈا، نیدرلینڈز، برطانیہ اور امریکا سمیت مختلف ممالک میں مقیم بلوچ کارکنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو بھی اپنے ہاں موجود ایسے عناصر کی سرگرمیوں اور بیانیے کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ حقوق کی بات کا بنیادی تقاضا انسانی جان، خواتین اور بچوں کے حقوق کیلئے بلاامتیاز آواز اٹھانا ہے اور کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔