کوئٹہ سے زیارت تک دہشت کا راج، 9 پولیس اہلکار شہید20اغواہ
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں کے حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہید اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان گزشتہ شب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس میں پولیس اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کی۔
دوسری جانب کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں حالیہ حملے کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ اس واقعے میں چار مقامی افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ مسلح افراد پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد کو اغوا کرکے لے گئے تھے۔ یہ افراد مانگی ڈیم کے قریب زیر تعمیر واٹر ٹینکی پر تعینات تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق پانچ مغوی افراد اغوا کاروں کے قبضے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ باقی افراد کی بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
واقعے کے خلاف مقامی شہری ایئرپورٹ روڈ پر احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ باقی مغویوں کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ادھر ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس میں بھی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور دہشت گردوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے
کوئٹہ: ضلع زیارت کے علاقے کچ سے پولیس اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد کے مبینہ اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مشتعل شہریوں نے ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مانگی ڈیم کے قریب زیر تعمیر واٹر ٹینکی پر تعینات پولیس اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد کو اغوا کر لیا۔ ان کے مطابق مغوی پولیس اہلکار مذکورہ منصوبے کی سکیورٹی پر مامور تھے۔
احتجاج میں شریک افراد نے دعویٰ کیا کہ اغوا کیے گئے افراد میں سے پانچ افراد اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ باقی افراد تاحال لاپتا ہیں۔
مظاہرین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مغویوں کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے، واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
قومی شاہراہ کی بندش کے باعث ٹریفک کی روانی مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے، جبکہ مختلف شہروں سے آنے اور جانے والے مسافر گھنٹوں سے سڑک پر پھنسے ہوئے ہیں۔