حوثیوں کے تین شہروں پر بیک وقت قیامت خیز حملے، سعودی عرب میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی
ریاض: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ ترین اور نہایت خطرناک میزائل و ڈرون حملے کر دیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد طاقتور بیلسٹک میزائل اور بارود سے بھرے ڈرون داغے۔ اگرچہ حکام نے فی الحال کسی جانی نقصان کی تردید کی ہے، تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حوثی مسلسل سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور اہم فوجی تنصیبات کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اتحادی افواج نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مملکت کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان جارحانہ حملوں کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیں گے۔
یہ روح فرسا حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے اندر حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان خونریز لڑائی میں خطرناک حد تک تیزی آ چکی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جاری اس گھمسان کی جنگ میں 500 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات نے خطے کی فضا کو مزید سوگوار اور کشیدہ کر دیا ہے۔ اس نئی اور شدید کشیدگی کے بعد بحیرہ احمر اور باب المندب کی انتہائی حساس بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی شدید خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔