پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے عمان کے دورے کے دوران پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور پاکستانی اسکلڈ ورکرز کو عمان کی لیبر مارکیٹ تک بہتر رسائی دینے کا معاملہ اٹھانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ عمان کو مختلف شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے، تو ایسے میں ایک سوال بلوچستان کے حوالے سے بھی بنتا ہے: بلوچ نوجوانوں کے لیے ایسی منظم کوشش کب ہوگی؟
بلوچستان، خصوصاً گوادر، کیچ، پنجگور اور مکران کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں نوجوان بہتر روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔ ان نوجوانوں میں ماہی گیری، کشتی رانی، مکینیکل کام، تعمیرات، الیکٹریشن، ویلڈنگ، ڈرائیونگ، سیکیورٹی اور دیگر فنی شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو مناسب تربیت اور سرکاری سطح پر منظم کوششوں کے ذریعے عالمی روزگار کی منڈی سے جوڑا جائے۔
عمان اور مکران کے تعلقات کی اپنی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ گوادر 1958 تک سلطنتِ عمان کے زیر انتظام رہا اور خطے کے بلوچ باشندوں کے عمان، خصوصاً وہاں کی مسلح افواج اور دیگر شعبوں سے روابط کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔
ماضی میں بھی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے عمان میں روزگار کے مواقع سامنے آتے رہے ہیں۔ 2014 میں گوادر، کیچ اور پنجگور سے بلوچ نوجوانوں کی عمانی فوج میں بھرتی کا معاملہ سامنے آیا تھا اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
آج ضرورت اس تاریخی تعلق کو جدید معاشی ضرورت کے ساتھ جوڑنے کی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان اور وفاقی حکومت عمانی حکام کے ساتھ باضابطہ رابطہ کرکے یہ امکان تلاش کرسکتے ہیں کہ اگر عمان کو سیکیورٹی، تعمیرات، میرین، ماہی گیری، ٹرانسپورٹ یا دوسرے فنی شعبوں میں افرادی قوت درکار ہے تو بلوچستان کے تربیت یافتہ نوجوانوں کو بھی میرٹ اور قانونی طریقہ کار کے تحت ان مواقع تک رسائی دی جائے۔
یہ معاملہ کسی دوسرے صوبے کے نوجوانوں کے مواقع کم کرنے کا نہیں۔ پنجاب کے نوجوانوں کے لیے کوشش ہونی چاہیے، بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے بھی اور ملک کے دیگر حصوں کے نوجوانوں کے لیے بھی۔ بیرونِ ملک روزگار کے بہتر اور محفوظ مواقع تک رسائی پاکستان کے ہر نوجوان کے لیے ہونی چاہیے۔
بلوچستان کے نوجوان صرف سرکاری ملازمتوں کے انتظار تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ اگر انہیں مناسب تربیت، سرٹیفکیشن اور بیرونِ ملک قانونی روزگار کے راستے فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کے ساتھ صوبے اور ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مقامی ملازمتوں کے اعلانات کے ساتھ عمان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے ساتھ ہنرمند افرادی قوت کے لیے منظم روزگار پروگراموں پر بھی کام کرنا چاہیے۔
اگر ایک صوبائی حکومت اپنے نوجوانوں کے لیے عمان جا کر روزگار کے نئے مواقع تلاش کرسکتی ہے تو بلوچستان بھی اپنے نوجوانوں کے لیے ایسا کرسکتا ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کو ہمدردی نہیں، مواقع چاہئیں—ایسے مواقع جہاں ان کا ہنر انہیں عزت، روزگار اور بہتر مستقبل دے سکے۔