مواد پر جائیں

کوئٹہ 24°C فجر 5:16 ظہر 12:17 عصر 4:20 مغرب 5:58 عشاء 7:18
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
بلوچستان

بلوچستان کے تین اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک، بھاری دھماکا خیز مواد برآمد

آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں انٹیلی جنس آپریشنز کیے گئے، پنجپائی میں سڑک بند کرنے کی کوشش ناکام، خضدار سے 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد

کوئٹہ: بلوچستان کے تین اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر الگ الگ کارروائیاں کرتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کیے گئے آپریشنز کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے 18 اکتوبر 2026 کو جاری بیان کے مطابق تینوں کارروائیاں 17 اکتوبر کو دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات پر کی گئیں۔ فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اس گروہ سے تھا جسے سرکاری بیان میں فتنہ الہند قرار دیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے انہیں بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردی میں ملوث قرار دیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں مسلح افراد نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے مقامی ٹریفک کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی کوشش ناکام بنادی۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پنجپائی میں ہونے والی کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی مداخلت سے شاہراہ پر رکاوٹیں قائم کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔
دوسری کارروائی ضلع نوشکی میں کی گئی، جہاں علاقے کی تلاشی اور کلیئرنس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا سراغ لگایا۔
فوج کے مطابق ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
تیسرا انٹیلی جنس آپریشن ضلع خضدار میں کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوا۔
خضدار میں کارروائی کے دوران 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ فوج کے بیان میں برآمد ہونے والے دھماکا خیز مواد کی مقدار بتائی گئی ہے، تاہم اس کے ممکنہ استعمال یا کسی مخصوص منصوبے سے تعلق کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تینوں اضلاع میں کارروائیوں کے بعد مزید دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر تلاشی اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں موجود دیگر مسلح عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری مہم عزمِ استحکام کے وژن کے تحت آگے بڑھائی جارہی ہے، جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان سے متعلق وفاقی ایپکس کمیٹی نے دی تھی۔
فوج نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یا سیکیورٹی فورسز کے ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

بلوچستان کے تین اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک، بھاری دھماکا خیز مواد برآمد