مواد پر جائیں

کوئٹہ 19°C فجر 5:15 ظہر 12:18 عصر 4:22 مغرب 6:00 عشاء 7:20
آج کا ای پیپر ⁦13⁩ اکتوبر ⁦2026⁩ پڑھیں
صحت

برطانیہ میں درمیانی عمر کے مردوں کی خودکشی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

سرکاری اعدادوشمار میں 50 سے 54 سال کے مردوں سے متعلق تشویشناک رجحان سامنے آگیا

 

برطانیہ میں درمیانی عمر کے مردوں کی خودکشی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

لندن: برطانیہ کے انگلینڈ اور ویلز میں 50 سے 54 سال کی عمر کے مردوں میں خودکشی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس عمر کے مردوں میں خودکشی سے ہونے والی اموات کی شرح 1981 کے بعد بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات (او این ایس) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں 50 سے 54 سال کی عمر کے 532 مردوں کی اموات خودکشی کے نتیجے میں ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عمر کے ہر ایک لاکھ مردوں میں خودکشی سے ہونے والی اموات کی شرح 28 ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2024 میں یہی شرح 27.3 تھی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 1981 میں متعلقہ ریکارڈ مرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد 50 سے 54 سال کے مردوں میں یہ بلند ترین شرح ہے۔

رپورٹ میں اس رجحان کو جنریشن ایکس سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ جنریشن ایکس سے مراد عام طور پر 1965 سے 1980 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ہیں۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نسل کے مردوں میں خودکشی کے باعث اموات کی بلند شرح کا رجحان 1990 کی دہائی سے برقرار رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نسل کے افراد عمر کے مختلف مراحل میں داخل ہوئے، لیکن ان میں خودکشی سے متعلق تشویشناک صورتحال مسلسل توجہ کا موضوع رہی۔

تاہم رپورٹ میں اس اضافے کی کسی ایک مخصوص وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ خودکشی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں ذہنی صحت، سماجی حالات اور دیگر متعدد عوامل کردار ادا کرسکتے ہیں، اس لیے صرف عمر یا نسل کی بنیاد پر اس کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی واضح رہے کہ سامنے آنے والا ریکارڈ خاص طور پر 50 سے 54 سال کی عمر کے مردوں سے متعلق ہے، اسے برطانیہ کے تمام مردوں یا تمام عمر کے افراد میں خودکشی کی مجموعی شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

تازہ اعدادوشمار نے درمیانی عمر کے مردوں کی ذہنی صحت، بروقت مدد تک رسائی اور خودکشی کی روک تھام کے اقدامات کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے۔