کیا مڈل ایسٹ میں نئی جنگ شروع ہونے والی ہے؟ ٹرمپ کے دوٹوک اعلان نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن کو ٹیلیفون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ٹرمپ سے ایران کے حالیہ مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “مجھے اس کی بالکل بھی پروا نہیں۔”
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور اس حوالے سے اپنے مؤقف میں کوئی نرمی نہیں لائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جون کے وسط میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانا اور تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنا تھا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز، بحری آمدورفت اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کے بعد مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو گئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق تازہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی فاصلے ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔